اس کے منہ میں 100 باریک دانت ہوتے تھے جن کی مدد سے یہ غالباً کیڑے مکوڑوں کا شکار کیا کرتا تھا (فوٹو: نیچر)

بیجنگ: ماہرینِ رکازیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے میانمار سے 10 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کی کھوپڑی دریافت کی ہے جو عنبر کے ایک ٹکڑے میں محفوظ ہے اور چونچ سمیت صرف 7.1 ملی میٹر لمبی ہے۔

تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، اس کھوپڑی کی ساخت لمبی گردن والے ’’ساروپوڈ‘‘ ڈائنوسار سے مشابہت رکھتی ہے لیکن اس پر چونچ کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی پرندہ بھی ہوسکتا تھا۔

کھوپڑی اور چونچ کو بنیاد بناتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے چھوٹے پرندے ’’شکر خورے‘‘ (ہمنگ برڈ) سے بھی چھوٹا ہوا کرتا تھا۔ (شکر خورے کی جسامت صرف 50 سے 61 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے)
مفصل اور محتاط مشاہدے کے بعد مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ڈائنوسار کے منہ میں لگ بھگ 100 باریک باریک دانت ہوا کرتے تھے جن کی مدد سے یہ غالباً کیڑے مکوڑوں کا شکار کیا کرتا تھا۔

اس کی آنکھوں کے سوراخ بہت چھوٹے تھے اور شاید ان سے بہت کم روشنی اندر داخل ہوسکتی تھی۔ اسی بناء پر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ’’پرندہ ڈائنوسار‘‘ دن کی تیز روشنی میں شکار کرتا تھا اور رات کے وقت آرام کرتا تھا۔

اسے Oculudentavis khaungraae کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ’’آنکھوں اور دانتوں والا‘‘ ہے۔

جریدے ’’نیچر‘‘ کی جانب سے اس بارے میں ایک مختصر ویڈیو بھی یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ہے:

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.