جسے مہمان نوازی کے شہر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ مردان صوبہ خیبر پختونخواہ کا دوسرا بڑا شہر ھے اور سرزمین اس کا پرانا نام برگنہ یوسفزئ ٹھا اس میں ایشیا کا سب سے بڑا شوگرمل ہے اور یہ پشاور سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مردان کا وجہ تسمیہ صوفی بزرگ پیر مردان شاہ کے نام سے ہے مردان شاہ مدے بابا کے اولاد میں سے تھے مدے خیل پیران اس شہر کے قدیم باسی ہے سرزمین پختونخواہ میں سب سے قدیم بزرگ مدے بابا کا مزار بھی ضلع مردان ہے اور پنجاب رجمنٹ سنٹر بھی مدے خیل پیران کے زمین پر بنا ہوا ہے گورنر جنرل فضل حق بھی اسی خاندان سے تھا مردان کا قدیم پارک پیر عبدالستار باچا کے نام پر ہی ہے پیر عبدالستار باچا ان مدے خیل پیران سے ہے اور ارمی میں بڑے بڑے آفیسر بھی ان خاندان سے ہے پیر مردان شاہ۔ جو اسلام کی تبلیغ کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ ضلع مردان میں بدھ مت مذہب کے بڑے آثار قدیمہ تخت بھائی اور جمال گڑھی میں ہیں۔ جس کے دیکھنے کے لیے پورے پاکستان سے ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں۔ مردان کے چپلی کباب مشہور بدایونی پیڑے سرخ مالٹے اور گلابی اسٹابری لوند خواڑ کے آمرسے بھی کافی مشہور ہے اور دستکاری کے لحاظ سے تخت بھائے جنڈے بازار جہاں ہر قسم کے ہاتوں سے تیار کردہ سامان با آسانی اور کم۔قیمت پر مل جاتی ہے
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کا مایہ ناز کھلاڑی اور سابق کپتان یونس خان اور فخر زمان نے اسی شہر میں آنکھیں کھولیں ہیں۔
ملک
پاکستان
صوبہ
خیبر پختونخوا
ضلع
مردان
تحصیل
تحصیل مردان
رقبہ
• کل
1,632 کلو میٹر2 (630 مربع میل)
آبادی
• کل
24 لاکھ
• کثافت
850/کلو میٹر2 (2,200/مربع میل)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.