1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔

2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔

3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔

4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔

تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔

اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔

5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،

پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔

6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔

7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔

8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے

اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔

نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔

اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔

9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔

10۔ قرآن پاک میں ہے

اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو

(سورہ البقرہ)

11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔

آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں

ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یا رب العالمین

جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.